کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام: شائقین کے لیے مکمل رہنما
کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام میدان میں کھلاڑیوں کی جگہ، ذمہ داری اور گیند کے ممکنہ راستے کی وضاحت کرتے ہیں۔ پاکستان، بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا سمیت ہر کرکٹ ملک میں سلپ، گلی، پوائنٹ، کور، مڈ آف، مڈ آن، اسکوائر لیگ، فائن لیگ، تھرڈ مین، لانگ آف اور لانگ آن بنیادی پوزیشنز سمجھی جاتی ہیں۔ ایک مکمل فیلڈ میں عموماً ۹ فیلڈر، وکٹ کیپر اور بولر شامل ہوتے ہیں، جبکہ ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پوزیشنز کا انتخاب مختلف ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر پی ایس ایل کے آخری اوور میں ڈیپ مڈ وکٹ اور تھرڈ مین رنز روکنے کے لیے اہم ہوتے ہیں، جبکہ ٹیسٹ میچ میں سلپ کارڈن زیادہ کارآمد رہتا ہے۔ فیلڈنگ نقشہ سمجھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہر جگہ کو بلے باز کے زاویے، بولر کی لائن اور میچ کی صورتحال کے ساتھ یاد کیا جائے۔

مرحلہ ۱: فیلڈنگ پوزیشنز کا بنیادی نقشہ سمجھیں
کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام یاد کرنے کا آسان طریقہ میدان کو تین حصوں میں تقسیم کرنا ہے: وکٹ کے قریب اندرونی دائرہ، اس کے بعد درمیانی فیلڈ، اور باؤنڈری کے قریب بیرونی فیلڈ۔ وکٹ کیپر براہِ راست بلے باز کے پیچھے کھڑا ہوتا ہے، جبکہ سلپ فیلڈر آف سائیڈ پر وکٹ سے ترچھے فاصلے پر رہتے ہیں۔ بولر کے سامنے مڈ آف اور مڈ آن، اور دونوں جانب پوائنٹ، کور، اسکوائر لیگ اور مڈ وکٹ عام جگہیں ہیں۔ باؤنڈری کے قریب انہی زاویوں کے نام کے ساتھ “ڈیپ” لگ جاتا ہے، جیسے ڈیپ پوائنٹ یا ڈیپ اسکوائر لیگ۔
یہ ترتیب صرف ناموں کی فہرست نہیں؛ ہر جگہ گیند کے زاویے اور رن روکنے کی ذمہ داری سے جڑی ہے۔ کرکٹ کے بنیادی قوانین کی مکمل رہنمائی میں پچ کی پیمائش، کریز اور اوور کی ساخت بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ میریلی بون کرکٹ کلب کے قوانینِ کرکٹ کے مطابق وکٹ کیپر کی جگہ اور فیلڈنگ پابندیاں کھیل کے قوانین سے منسلک ہیں، اس لیے غیر قانونی فیلڈ سیٹ اپ صرف حکمت عملی کی غلطی نہیں بلکہ جرمانے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ آئی سی سی کے ٹی ٹوئنٹی قوانین میں دائرے سے باہر فیلڈرز کی حد بھی میچ کے مرحلے کے مطابق بدلتی ہے۔
مزید تفصیل دیکھ کر فیلڈ کا نقشہ ذہن میں بٹھانا ہو تو یہ اگلا قدم مفید رہے گا۔
بنیادی پوزیشنز کی فوری فہرست
- وکٹ کیپر: بلے باز کے پیچھے گیند پکڑتا ہے۔
- سلپ: کنارے سے آنے والی گیند کے کیچ کے لیے۔
- گلی: سلپ اور پوائنٹ کے درمیان ترچھا علاقہ۔
- پوائنٹ: آف سائیڈ پر مربع زاویہ۔
- کور: آف سائیڈ پر قدرے آگے کا علاقہ۔
- مڈ آف اور مڈ آن: بولر کے سامنے دونوں جانب۔
- مڈ وکٹ: لیگ سائیڈ پر ترچھا درمیانی مقام۔
- اسکوائر لیگ: بلے باز کے برابر لیگ سائیڈ۔
- فائن لیگ اور تھرڈ مین: باؤنڈری کے قریب پچھلے زاویے۔

مرحلہ ۲: آف سائیڈ کی پوزیشنز کیسے پہچانیں؟
آف سائیڈ کی اہم فیلڈنگ پوزیشنز سلپ، گلی، پوائنٹ، کور، ایکسٹرا کور، مڈ آف، تھرڈ مین اور لانگ آف ہیں۔ یہ مقامات دائیں ہاتھ کے بلے باز کے آف اسٹمپ کے سامنے یا اس کے پچھلے ترچھے زاویوں میں واقع ہوتے ہیں، جبکہ بائیں ہاتھ کے بلے باز کے لیے سمتیں الٹ محسوس ہو سکتی ہیں۔ سلپ کنارے والی گیند کا فوری کیچ لیتا ہے، پوائنٹ کٹ شاٹ روکتا ہے، کور ڈرائیو کے راستے کو بند کرتا ہے، اور مڈ آف سیدھے یا کور کے درمیان آنے والی گیند پر نظر رکھتا ہے۔
آف سائیڈ کی ترتیب بولر کی لائن سے براہِ راست جڑی ہوتی ہے۔ اگر محمد رضوان یا بابر اعظم جیسے بلے باز آف سائیڈ پر مضبوط ڈرائیو کھیل رہے ہوں تو کور اور ایکسٹرا کور پیچھے کیے جا سکتے ہیں؛ لیکن نئی گیند، سبز پچ اور سوئنگ کے وقت سلپ فیلڈرز کو وکٹ کے قریب رکھنا زیادہ منطقی ہوتا ہے۔ “گلی” کو اکثر پوائنٹ سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ گلی سلپ اور پوائنٹ کے درمیان زیادہ پچھلی اور ترچھی جگہ ہے۔ آف سائیڈ شاٹس اور فیلڈ سیٹنگ اس فرق کو ڈایاگرام کے ساتھ واضح کرتا ہے۔
ایک اہم عملی نکتہ یہ ہے کہ فیلڈر کا نام کافی نہیں؛ اس کی گہرائی بھی بتانا ضروری ہے۔ “شارٹ کور” اندرونی دائرے کے قریب ہوگا، جبکہ “ڈیپ کور” باؤنڈری کے قریب۔ ٹی ٹوئنٹی میں یہ فرق ایک چوکے اور ایک رکے ہوئے رن کے درمیان فیصلہ کر سکتا ہے، خاص طور پر نیشنل اسٹیڈیم کراچی یا قذافی اسٹیڈیم لاہور جیسے بڑے میدانوں میں جہاں باؤنڈری کا فاصلہ یکساں نہیں ہوتا۔
آف سائیڈ کا مختصر نقشہ
- وکٹ کے پیچھے سے شروع کریں: سلپ، گلی، تھرڈ مین۔
- مربع حصے میں جائیں: پوائنٹ اور ڈیپ پوائنٹ۔
- آگے کی طرف بڑھیں: کور، ایکسٹرا کور، مڈ آف۔
- باؤنڈری پر وہی زاویے دہرائیں: ڈیپ کور اور لانگ آف۔
مرحلہ ۳: لیگ سائیڈ کے نام اور ذمہ داریاں یاد کریں
لیگ سائیڈ کی بنیادی پوزیشنز فائن لیگ، اسکوائر لیگ، مڈ وکٹ، مڈ آن، لانگ آن اور ڈیپ مڈ وکٹ ہیں۔ فائن لیگ وکٹ کے پیچھے لیگ سائیڈ پر ہوتا ہے اور فائن گلانس، پیڈز سے لگنے والی گیند یا کمزور فلک کو روکتا ہے۔ اسکوائر لیگ بلے باز کے تقریباً برابر کھڑا رہتا ہے، جبکہ مڈ وکٹ اس سے آگے ترچھے زاویے پر ہوتا ہے۔ مڈ آن بولر کے سامنے سیدھا، مگر لیگ سائیڈ کی طرف ہوتا ہے، اور لانگ آن اسی لائن کا باؤنڈری فیلڈر ہے۔
یہاں سب سے عام غلطی اسکوائر لیگ، مڈ وکٹ اور ڈیپ مڈ وکٹ کو ایک ہی جگہ سمجھنا ہے۔ اسکوائر لیگ بلے باز کے برابر ہوتا ہے؛ مڈ وکٹ آگے ترچھا؛ ڈیپ مڈ وکٹ اسی زاویے کا باؤنڈری ورژن ہے۔ اسپن بولر کے خلاف یہ فرق بہت اہم بن جاتا ہے، کیونکہ سوئپ، پل اور فلک کے شاٹس مختلف سمتوں میں نکلتے ہیں۔ ۲۰۲۶ کے پی ایس ایل جیسے تیز فارمیٹ میں کپتان اکثر ڈیپ مڈ وکٹ، لانگ آن اور فائن لیگ کو ایک ساتھ استعمال کرتا ہے تاکہ باؤنڈری بھی رکے اور سنگل بھی مشکل ہو۔
بین الاقوامی کرکٹ میں میدان کی شکل بھی فیصلہ بدلتی ہے۔ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کی ایک باؤنڈری نسبتاً مختصر ہو تو مڈ وکٹ کے پیچھے فیلڈر کو مزید گہرا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ میلبورن کرکٹ گراؤنڈ جیسے وسیع میدان میں اسی پوزیشن پر دو رنز روکنے کی ترجیح بڑھ جاتی ہے۔ اسپن باؤلنگ کے خلاف دفاعی فیلڈ میں یہی زاویے گیند کی رفتار اور بلے باز کے شاٹ انتخاب کے ساتھ سمجھائے گئے ہیں۔
فیلڈ سیٹ کرنے سے پہلے بلے باز کی طاقت، گیند کی رفتار، باؤنڈری کا فاصلہ اور اوور میں باقی گیندیں نوٹ کریں؛ محض روایتی نقشہ کافی نہیں ہوتا۔

مرحلہ ۴: کون سی فیلڈنگ پوزیشن میچ کی صورتحال کے مطابق بدلتی ہے؟
میچ کی صورتحال کے مطابق فیلڈنگ پوزیشن اس لیے بدلتی ہے کہ وکٹ لینے، سنگل روکنے اور باؤنڈری بچانے کی ترجیحات ہر اوور میں یکساں نہیں رہتیں۔ نئی گیند کے پہلے چند اوورز میں سلپ، گلی اور شارٹ کور کنارے سے کیچ کے امکانات بڑھاتے ہیں؛ درمیانی اوورز میں پوائنٹ، کور، مڈ وکٹ اور اسکوائر لیگ رن کی رفتار کم کرتے ہیں؛ آخری اوورز میں لانگ آف، لانگ آن، ڈیپ مڈ وکٹ، ڈیپ اسکوائر لیگ اور تھرڈ مین باؤنڈری کے خطرے کو قابو کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی فیلڈر کو پورے میچ میں ایک ہی جگہ رکھنا کم ہی مؤثر رہتا ہے۔
کپتان کو کم از کم پانچ عوامل دیکھنے چاہییں:
- فارمیٹ: ٹیسٹ میں سلپ، ٹی ٹوئنٹی میں باؤنڈری فیلڈر۔
- گیند: سوئنگ، سیم، اسپن یا سلوئر گیند۔
- بلے باز: پل، کٹ، ڈرائیو یا سوئپ کی طاقت۔
- اوور کا مرحلہ: پاور پلے، درمیانی اوور یا ڈیتھ اوور۔
- میدان: باؤنڈری کا فاصلہ اور ہوا کا رخ۔
پاور پلے میں آئی سی سی کے محدود اوورز کے قواعد کے تحت دائرے سے باہر فیلڈرز کی تعداد محدود ہوتی ہے، اس لیے کپتان کو اندرونی دائرے میں درست فیلڈر چننا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر بھارت کے خلاف دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں تھرڈ مین کو پیچھے رکھنے سے کنارے کی باؤنڈری رک سکتی ہے، مگر اس کے نتیجے میں سلپ یا گلی خالی ہو سکتی ہے۔ آئی سی سی کے کھیلنے کے حالات میں فارمیٹ کے مطابق پابندیوں کی تفصیل ملتی ہے۔
یہاں ایک غیرمعمولی مگر کارآمد اصول بھی ہے: آخری دو اوورز میں صرف چوکا روکنے کے لیے ہر فیلڈر کو باؤنڈری پر بھیجنا ہمیشہ درست نہیں۔ اگر سنگل آسان ہو جائے تو دباؤ ختم ہو جاتا ہے؛ ایک اندرونی دائرے کا تیز فیلڈر دوسرے رن کو روک کر اسٹرائیک بدلنے کا موقع کم کر سکتا ہے۔ یہی باریک فرق عام نقشوں میں نظر نہیں آتا، مگر پی ایس ایل اور آئی پی ایل جیسے مقابلوں میں نتیجہ بدل دیتا ہے۔
فیلڈنگ کی اس عملی منطق کو مزید منظم انداز میں دیکھنے کے لیے یہ مختصر رہنمائی مناسب ہے۔
مرحلہ ۵: کیا فیلڈنگ پوزیشنز کی شناخت درست طور پر جانچی جا سکتی ہے؟
فیلڈنگ پوزیشنز کی شناخت درست جانچنے کے لیے بلے باز کو مرکز، بولر کو سامنے اور وکٹ کیپر کو پیچھے رکھ کر ہر نام کو گھڑی کی سمت میں نشان زد کریں۔ پہلے سلپ، گلی، پوائنٹ، کور اور مڈ آف رکھیں، پھر مڈ آن، مڈ وکٹ، اسکوائر لیگ، فائن لیگ، تھرڈ مین، لانگ آف اور لانگ آن شامل کریں۔ اس مشق سے سمت، زاویہ اور گہرائی تینوں الگ الگ سمجھ آتے ہیں۔
اپنی فہرست کی تصدیق اس چیک لسٹ سے کریں:
- کیا پوزیشن آف سائیڈ یا لیگ سائیڈ میں ہے؟
- کیا وہ وکٹ کے قریب، درمیانی فاصلے پر یا باؤنڈری پر ہے؟
- کیا “ڈیپ” کا مطلب اسی جگہ کا باؤنڈری ورژن ہے؟
- کیا دائیں اور بائیں ہاتھ کے بلے باز کے مطابق زاویہ بدل رہا ہے؟
- کیا فیلڈر کی ذمہ داری کیچ، سنگل یا باؤنڈری روکنا ہے؟
میریلی بون کرکٹ کلب کے قوانین میں فیلڈرز کی بنیادی جگہوں کی مکمل لغت نہیں دی جاتی، کیونکہ کپتان حالات کے مطابق پوزیشنز مقرر کرتا ہے؛ اس لیے “فیلڈنگ پوزیشن” ایک جامد نشان کے بجائے حکمت عملی کا نام بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسکورکارڈ میں سلپ یا کور کی تفصیل عموماً الگ نہیں لکھی جاتی، مگر براڈکاسٹ گرافکس اور کوچنگ ڈایاگرام میں وہ نمایاں ہوتی ہے۔ بیٹنگ نوٹس پر میچ جائزے پڑھتے وقت فیلڈ کا نقشہ، بولر کی لائن اور بلے باز کا شاٹ ایک ساتھ دیکھیں؛ صرف رنز کا نتیجہ دیکھنے سے فیصلہ ادھورا رہتا ہے۔
ایک اور قابلِ توجہ نکتہ یہ ہے کہ “شارٹ تھرڈ” اور “تھرڈ مین” ایک جیسے نہیں۔ شارٹ تھرڈ اندرونی دائرے کے قریب کٹ اور ایج روکنے کے لیے ہوتا ہے، جبکہ تھرڈ مین باؤنڈری کے قریب رہتا ہے۔ اسی طرح شارٹ فائن لیگ اور فائن لیگ کے درمیان فرق بھی گہرائی کا ہے، نام کا نہیں۔ یہ باریکیاں فیلڈنگ نقشے کو واقعی پڑھنے کے قابل بناتی ہیں۔

عام غلطیوں کا ازالہ: فیلڈنگ نام کیوں گڈمڈ ہوتے ہیں؟
کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام عموماً اس لیے گڈمڈ ہوتے ہیں کہ ناظرین سمت، گہرائی اور بلے باز کے ہاتھ کو الگ الگ نہیں دیکھتے۔ درست طریقہ یہ ہے کہ پہلے آف سائیڈ اور لیگ سائیڈ طے کریں، پھر وکٹ سے فاصلہ دیکھیں، اور آخر میں شاٹ کا ممکنہ زاویہ نوٹ کریں۔ “ڈیپ” ہمیشہ باؤنڈری کے قریب جگہ، “شارٹ” اندرونی دائرے کے قریب جگہ، اور “مڈ” درمیانی زاویے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
عام مسائل اور ان کے حل یہ ہیں:
- سلپ اور گلی میں الجھن: سلپ وکٹ کے زیادہ قریب اور گلی اس سے زیادہ ترچھی پوزیشن ہے؛ دونوں کو ایک ہی لائن پر نہ رکھیں۔
- پوائنٹ اور کور کا فرق: پوائنٹ مربع زاویے پر، کور آگے کی طرف ڈرائیو کے راستے میں ہوتا ہے۔
- مڈ وکٹ اور اسکوائر لیگ: اسکوائر لیگ بلے باز کے برابر، مڈ وکٹ آگے ترچھا ہوتا ہے۔
- لانگ آف اور لانگ آن: لانگ آف آف سائیڈ پر، لانگ آن لیگ سائیڈ پر باؤنڈری فیلڈر ہے۔
- شارٹ اور ڈیپ کا غلط استعمال: ایک ہی نام کے ساتھ گہرائی بدلنے سے ذمہ داری بھی بدل جاتی ہے۔
اگر فیلڈ نقشہ سمجھ نہ آئے تو کاغذ پر پچ بنائیں، بلے باز کو درمیان میں رکھیں اور ہر پوزیشن کو ۱۲ بجے سے گھڑی کی سمت میں لکھیں۔ پہلے ۹ بنیادی جگہیں یاد کریں، پھر سلپ کارڈن، شارٹ کور، ڈیپ پوائنٹ، ڈیپ اسکوائر لیگ اور فائن تھرڈ جیسی مخصوص تبدیلیاں شامل کریں۔ کرکٹ آسٹریلیا کے فیلڈنگ کوچنگ وسائل میں تربیتی ڈایاگرام اور عملی مشقوں کا انداز اسی ترتیب پر مبنی ہے، اگرچہ مقامی میدان کے مطابق فاصلے بدل سکتے ہیں۔
بیٹنگ نوٹس کے میچ جائزوں، پی ایس ایل کوریج اور باؤلنگ حکمت عملی کے ساتھ فیلڈنگ نام پڑھنے سے اسکورکارڈ کی تصویر زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ اب آخری کام صرف اتنا ہے کہ ہر پوزیشن کو ایک شاٹ، ایک ذمہ داری اور ایک ممکنہ میچ صورتحال کے ساتھ یاد کر لیا جائے۔
خلاصہ
کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام یاد کرنے کا تیز ترین راستہ میدان کو آف سائیڈ، لیگ سائیڈ، اندرونی دائرے اور باؤنڈری میں تقسیم کرنا ہے۔ سلپ، گلی، پوائنٹ، کور، مڈ آف، مڈ آن، مڈ وکٹ، اسکوائر لیگ، فائن لیگ، تھرڈ مین، لانگ آف اور لانگ آن بنیادی ستون ہیں، مگر ان کی گہرائی میچ کی صورتحال کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں کیچنگ پوزیشنز، ون ڈے میں رن کنٹرول اور ٹی ٹوئنٹی میں باؤنڈری تحفظ زیادہ اہم ہو سکتا ہے۔ میدان کا سائز، بابر اعظم یا محمد رضوان جیسے بلے باز کی شاٹ ترجیحات، بولر کی لائن اور اوور کا مرحلہ فیلڈ سیٹنگ طے کرتے ہیں۔ پہلے نقشہ بنائیں، پھر ہر جگہ کو ایک مخصوص شاٹ سے جوڑیں، اور آخر میں آئی سی سی کے متعلقہ قواعد سے پابندیوں کی تصدیق کریں۔
اپنی اگلی میچ فہرست اور فیلڈنگ حکمت عملی کو اسی طریقے سے پڑھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز کے نام کیا ہیں؟
جواب: بنیادی کرکٹ فیلڈنگ پوزیشنز میں وکٹ کیپر، سلپ، گلی، پوائنٹ، کور، مڈ آف، مڈ آن، مڈ وکٹ، اسکوائر لیگ، فائن لیگ، تھرڈ مین، لانگ آف اور لانگ آن شامل ہیں۔ ہر مقام وکٹ کے مقابلے میں مختلف زاویے اور فاصلے پر ہوتا ہے۔ “شارٹ” اندرونی دائرے کے قریب اور “ڈیپ” عموماً باؤنڈری کے قریب فیلڈر کی نشاندہی کرتا ہے۔ پوزیشن کا انتخاب فارمیٹ، بولر، بلے باز اور میدان کی ساخت کے مطابق بدلتا ہے۔
سوال: فیلڈنگ پوزیشنز کو آسانی سے کیسے یاد کیا جائے؟
جواب: فیلڈ کو پہلے آف سائیڈ اور لیگ سائیڈ میں تقسیم کر کے پوزیشنز یاد کریں۔ آف سائیڈ پر سلپ، گلی، پوائنٹ، کور اور مڈ آف، جبکہ لیگ سائیڈ پر فائن لیگ، اسکوائر لیگ، مڈ وکٹ اور مڈ آن کو نشان زد کریں۔ اس کے بعد لانگ آف، لانگ آن، تھرڈ مین اور ڈیپ مڈ وکٹ کو باؤنڈری کے ساتھ جوڑیں۔ کاغذ پر پچ کا نقشہ بنا کر ہر جگہ کو متعلقہ شاٹ سے ملانا یادداشت مضبوط کرتا ہے۔
سوال: سلپ اور گلی فیلڈنگ پوزیشنز میں کیا فرق ہے؟
جواب: سلپ وکٹ کے نسبتاً قریب آف سائیڈ پر ہوتا ہے، جبکہ گلی سلپ اور پوائنٹ کے درمیان زیادہ ترچھے زاویے پر کھڑا ہوتا ہے۔ دونوں کا مقصد کنارے سے آنے والی گیند کا کیچ لینا ہے، مگر گلی قدرے چوڑے یا پیچھے والے ایج کو قابو کرتا ہے۔ نئی گیند اور سوئنگ کے وقت سلپ کارڈن زیادہ عام ہے۔ گلی عموماً کٹ، اوپری ایج اور ترچھے شاٹس کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔
سوال: ٹی ٹوئنٹی میں فیلڈنگ پوزیشنز کیسے بدلتی ہیں؟
جواب: ٹی ٹوئنٹی میں فیلڈنگ باؤنڈری روکنے، سنگل محدود کرنے اور پاور پلے کی پابندیوں کے مطابق تیزی سے بدلتی ہے۔ آخری اوورز میں لانگ آف، لانگ آن، ڈیپ مڈ وکٹ، ڈیپ اسکوائر لیگ اور تھرڈ مین اہم ہو سکتے ہیں۔ پاور پلے میں دائرے سے باہر فیلڈرز کی تعداد محدود ہونے کے باعث پوائنٹ، کور اور مڈ وکٹ کی جگہ زیادہ احتیاط سے منتخب کی جاتی ہے۔ بلے باز کے پسندیدہ شاٹ کے مطابق ایک فیلڈر کو اندر لا کر دوسرے کو باؤنڈری پر بھیجا جا سکتا ہے۔
سوال: اگر پوائنٹ اور کور کی جگہ سمجھ نہ آئے تو کیا کیا جائے؟
جواب: پوائنٹ بلے باز کے آف سائیڈ پر تقریباً مربع زاویے میں ہوتا ہے، جبکہ کور اس سے آگے ڈرائیو کے راستے پر کھڑا ہوتا ہے۔ پچ کا خاکہ بنائیں اور بلے باز کے آف اسٹمپ سے دونوں سمتوں میں فرضی لکیریں کھینچیں۔ کٹ شاٹ پوائنٹ کی طرف اور کور ڈرائیو کور کی طرف جانے کا تصور کریں۔ شارٹ کور اندرونی دائرے کے قریب، جبکہ ڈیپ کور باؤنڈری کے پاس ہوتا ہے۔
سوال: فیلڈنگ پوزیشنز سیکھنے کے لیے کیا کوئی فیس یا خاص سامان درکار ہے؟
جواب: بنیادی فیلڈنگ پوزیشنز سیکھنے کے لیے کوئی فیس یا خاص سامان لازمی نہیں؛ کاغذ، پنسل اور کرکٹ پچ کا سادہ خاکہ کافی ہے۔ عملی تربیت میں گیند، کونز اور ساتھی کھلاڑی مددگار ہوتے ہیں، مگر نام اور زاویے گھر پر بھی یاد کیے جا سکتے ہیں۔ آئی سی سی، میریلی بون کرکٹ کلب اور کرکٹ آسٹریلیا کے مفت قوانین و تربیتی وسائل بنیادی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ باقاعدہ کلب کوچنگ میں فیس مقام، عمر اور سیشن کی تعداد کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔